رَجعت | Rijaat


Rate this post

رَجعت

تحریر: مسز انیلا یٰسین سروری قادری (لاہور)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
پیروی کرو اللہ کی اور پیروی کرو اللہ کے رسولؐ کی اور اس کی جو تم میں ’’اولی الامر‘‘ ہو۔ (سورۃ النسائ۔59)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
فقرا کاملین کے نزدیک اولی الامر سے مراد وہ صدیق بندہ ہے جو مرشد ِکامل ہو اور نائب ِرسولؐ کے مرتبہ پر فائز ہو اور بحکم ِالٰہی لوگوں کی باطنی تربیت جس کی ذمہ داری ہو۔ (شمس الفقرا)

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے فرمایا:
تم کسی ایسے شیخ ِکامل (مرشد کامل اکمل) کی صحبت اختیار کروجو حکم ِخداوندی اور علم ِلدنیّ کا واقف کار ہو اور وہ تمہیں اس کا راستہ بتائے۔ جو کسی فلاح والے کو نہیں دیکھے گا فلاح نہیں پاسکتا۔ تم اس شخص کی صحبت اختیار کرو جس کو اللہ کی صحبت نصیب ہو۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 61)

حدیث ِنبویؐ ہے:
جو شخص اس حالت میں مر ا کہ اس کی گردن میں کسی مرشد کامل کی بیعت نہیں وہ جہالت کی موت مرا۔  (مسلم4793) 

یعنی مرشد کامل اکمل کی تلاش کرنا اور پھر اُس کے زیر ِسایہ استقامت و ادب سے راہِ فقر (قرب ودیدارِ حق تعالیٰ کی راہ) کی منازل طے کرنا اُمت ِمحمدیہ کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ لیکن ایسا طالب جو مرشد کامل اکمل کی اطاعت و فرمانبرداری ابتدائی مراحل میں تو بہت شوق سے کرے اور جب آزمایا جائے تو مرشد سے منہ موڑ لے‘ ایسے خام و ناقص طالب کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
جو مرید اپنے پیر کو اپنی جان سے عزیز تر و قریب تر نہیں جانتا اُسے مرید نہیں کہا جاسکتا، وہ محض پریشان ہے۔ــ (شمس الفقرا)
ایسے پریشان حال طالب ِدنیا مرید کے بارے میں راہِ فقر و تصوف میں رَجعت کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

رَجعت کسے کہتے ہیں؟

لفظ ’’رَجعت‘‘ مصدر ہے جو عربی لفظ ’’رجع‘‘ سے مشتق ہے اور اس کے لغوی معنی ’’باز گشت، لوٹنے اور واپس پلٹنے‘‘ کے ہیں۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
رَجعت کے معنی غیر حق کی طرف رجوع کرنا ہے جو (حق کی بجائے) باطل تک پہنچا دیتا ہے۔ (قربِ دیدار)
راہِ فقر و تصوف میں ’’رَجعت‘‘ سے مراد ’’مرشد سے پلٹ جانا،  مرشد سے منہ موڑ لینا اور مرشد کو چھوڑ کر دنیا اور لذاتِ دنیاکی طرف رجوع کر لینا ہے۔‘‘ 

رَجعت کیوں ہوتی ہے؟

اللہ پاک نے کائنات میں ایک میزان مقرر فرمایا ہے اور جو اس میزان کی پیروی کرتا ہے وہی کامیابی سے حق کی جانب اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے ورنہ اس راہ ِ فقر و تصوف میں بے شمار خطرات و مصائب ہیں۔
راہِ فقر میں طالب ِ مولیٰ کو مرشد کامل اکمل بحکم ِالٰہی مختلف احوال سے گزارتا ہے جس کی بدولت طالب پر مختلف کیفیات کا ظہور ہوتا ہے اور وہ مختلف طرح کے مشاہدات کرتا ہے جو حقیقتاً عطائے مرشد ہوتی ہیں اور اس میں طالب کا کوئی کمال نہیں ہوتا مثلاً بعض اوقات صحبت ِ مرشد کی برکت سے مرید سے کوئی کرامت ظاہر ہو جاتی ہے، جیسا کہ دعائیں جلد قبول ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور مشاہدات و مکاشفات ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے مقام پر اگر مرید اِن کرامات کو اپنا کمال سمجھتے ہوئے تکبر کو اپنے دِل میں جگہ دے دے تو پھر رَجعت اور ہلاکت تک بات پہنچ جاتی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
 فقرا کے حکم کی تعمیل کر کہ اُن کی مخالفت آدمی کو دونوں جہان میں خوار کرتی ہے۔ ( کلید التوحید کلاں)

شیخ ِاکبر محی الدین ابن ِعربی ؒ فرماتے ہیں:
جہاں روحانی احوال اور ان کے ساتھ واردات اور خیالات لازم اور بابرکت ہیں وہاں یہ طریقت میں بندۂ خدا کے لیے بہت بڑا حجاب بھی ہیں۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ راہِ فقر و تصوف میں طالب ِمولیٰ کو مکاشفات و وارداتِ غیبی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر طالب ایسی صورت میں مرشد پر یقین و بھروسہ نہ کرے اور نہ ہی مرشد کی جانب رجوع کرے تو اس کا روحانی سفر دم توڑ جاتا ہے اور وہ نفسانی غلبہ کا شکار ہو جاتا ہے۔ پھر باطنی طور پر طالب یہ سمجھتا ہے کہ میرا راہِ حق پر سفر ٹھیک طرح سے جاری ہے۔ نتیجتاً ایسا طالب تباہی کے اندھے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ 

 رَجعت کی اقسام

رَجعت کی دو اقسام ہیں :
عارضی رَجعت
 مستقل رَجعت

عارضی رَجعت:

چونکہ راہِ حق کا طالب اپنے روحانی سفر میں عطائے مرشد کی بدولت کئی مکاشفات اور احوال و مقامات سے گزرتا ہے، اگر اس دوران طالب سے بشری کمزوری کے باعث کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو طالب کو رَجعت ہو جاتی ہے نتیجتاً عارضی طور پر اس کا مقام سلب ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر طالب مرشد کی بارگاہ میں صدقِ دل سے توبہ کر لے اور اپنی غلطی کو سدھار لے تو مرشد کامل اکمل نہ صرف طالب کو معاف فرما دیتا ہے بلکہ اس کا روحانی سفر بھی بحال فرما دیتا ہے۔ سروری قادری مرشد کامل اکمل کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے مرید کو مستقل رَجعت ہونے نہیں دیتا بشرطیکہ طالب عاجز اور مخلص ہو۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
طالب کو حق صفا اور مخلص ہونا چاہیے۔ (فضل اللقا)
سروری قادری مرید کو بشری کمزوریوں کے باعث عارضی رَجعت سے مر شد کی مراد اسے سزا دینا نہیں بلکہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے تاکہ مرید اپنی کوتاہیوں پر اللہ کی بارگاہ میں دل سے نادم ہو کر مرشد کے زیرِ سایہ اپنا روحانی سفر مزید محنت، خلوص اور محبت سے جاری رکھ سکے۔ 
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
اگر کوئی ولی ٔ واصل عالم ِروحانی (کے مراتب ِسلوک ) یا عالم ِ قدس (ملکوت) کے مراتب میں رجعت کھا کر اپنے مقام سے گِر جائے تو اس پاک کتاب کو وسیلہ بنالے تو یہ اس کے لیے مرشد کامل ہے۔اگر وہ اسے وسیلہ نہ بنائے تو اسے قسم ہے، اگر ہم اُسے اس کے درجہ تک نہ پہنچائیں تو ہمیں قسم ہے۔ (رسالہ روحی شریف)

مستقل رَجعت:

مستقل رَجعت ہمیشہ منافق، جاسوس اور لالچی طالب کو ہی ہوتی ہے۔ ایسا طالب خودپسند ہوتا ہے اور اپنی مرضی کرتا ہے۔ چونکہ  مرشد کامل اکمل کی ذات مخلوقِ خدا کے لیے رحمت ہوتی ہے اور مرشد کامل اکمل اپنے زیرِ سایہ ہر مرید کی خطاؤ ں کو درگزر فرماتا ہے، ایسے نافرمان طالب کو بھی مرشد کامل اکمل ظاہر و باطن میں معافی کے مواقع دیتا رہتا ہے۔ لیکن اگر طالب مستقل ہٹ دھڑمی اور نافرمانی کا مظاہرہ کرتا رہے تو پھر اللہ پاک ایسے نافرمان مرید کی منافقت ظاہر فرما دیتا ہے۔  

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
انسان گمراہ خود ہوتا ہے، کوئی اسے گمراہ نہیں کرتا۔ گمراہ کا مطلب ہے اپنی مرضی کرنا اور اپنے نفس اور مفاد کے مطابق صراطِ مستقیم چھوڑ کر اپنے لیے علیحدہ راستہ بنانا اور اس پر بضد رہنا۔ (سلطان العاشقین)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
بے اخلاص، بے ادب، بے وفا اور بے حیا طالب سے کتّا بہتر ہے۔ جو مرید (طالب) دنیا مردار سے محبت کرتا ہے وہ طلب ِ معرفت میں مردار رہتا ہے۔ (فضل اللقا)
اگر کوئی فقر اور اسم ِاللہ سے برگشتہ ہو جاتا ہے اور ہمت و استقامت کو چھوڑکر دنیا اور اہل ِدنیا کی طرف مراجعت کرتاہے (لوٹ جاتا ہے) تووہ مرتبہ شہبازی فقر و راز سے منہ موڑتاہے وہ گویا چیل ہے جس کی نظر مردار پر اٹکی ہوئی ہے اس لیے وہ دونوں جہا ن میں ذلیل و خوار ہے اس کا دِل دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔ اُس کی آنکھوں میں دنیا کی بھوک بھری رہتی ہے۔ (محک الفقر کلاں) 

 رَجعت کا واقعہ

روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادیؒ کے مریدوں میں سے ایک کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ وہ درجہ کمال کو پہنچ چکا ہے اب اس کے لیے تنہائی ہم نشینی سے بہتر ہے۔ چنانچہ اس نے مرشد کی صحبت چھوڑ کر خلوت نشینی اختیار کر لی اور جماعت ِمشائخ سے روگردان ہو گیا۔ رات کے وقت اس کے پاس ایک اونٹ لایا جاتا اور اسے کہا جاتا کہ چلو تمہیں جنت میں جانا ہے۔ وہ اونٹ پر سوار ہوتے اور پُرفضا مقام پر پہنچ جاتے۔ خوبرو لوگوں کی معیت میں اسے عمدہ کھانے مہیا کیے جاتے جہاں وہ صبح تک رہتا۔ پھر اسے نیند آجاتی اور جب وہ بیدار ہوتا تو خود کو اپنی خلوت گاہ میں پاتا۔ 

رفتہ رفتہ بشری غرور اور رعونت نے غلبہ پایا اور تکبر نے اسے پوری طرح جکڑ لیا اس کی زبان پر اپنے کمال کا دعویٰ جاری ہو گیا۔ حضرت جنید بغدادیؒ کو علم ہوا تو اس کی خلوت گاہ پر تشریف لائے اور دیکھا کہ وہ غرور و تکبر میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اُس سے حال دریافت کیا تو اُس نے سارا حال بیان کر دیا۔ حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا کہ جب آج رات اس مقام پر جانا ہو تو تین مرتبہ لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم  پڑھنا۔ چنانچہ جب رات کو اسے حسب ِسابق لے جایا گیاتو اگرچہ وہ دل سے اپنے مرشد کامل کا انکاری ہو چکا تھا لیکن محض تجربے کے لیے اس نے تین مرتبہ لاحول پڑھا۔ یکایک اسے لے جانے والے تمام لوگ چیخ مار کر بھاگ گئے اور اس نے خود کو نجاست اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا پایا جہاں اس کے اردگرد مردار جانوروں کی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس وقت اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ دل سے توبہ کی اور ہمیشہ صحبت ِمرشد میں رہنے لگا۔ مرید کے لیے اکیلے رہنے سے بڑھ کر کوئی آفت نہیں۔ (کشف المحجوب)

حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں:
جب تک تم اپنی خودی کے احساس میں سرمست ہو تم کسی باکمال کے کمالات کی کیا قدر کر سکتے ہو!
یہ نفس ہی ایسا ساتھی ہے جو طالب کو راہِ حق پر استقامت سے چلاتا بھی ہے اور منہ کے بَل گِرا بھی دیتا ہے۔ نافرمان نفس پہلے باطنی طور پر سرکشی اور نافرمانی پر ابھارتا ہے، اس مقام پر اگر طالب خود کو مرشد کے حضور عاجز نہ سمجھے تو پھر ظالم نفس طالب کو رَجعت کے اندھیرے کنویں میں گِرا دیتا ہے۔ نفس کو سرکشی سے بچانے اور راہِ فقر پر استقامت سے چلانے کے لیے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
طالب ِمولیٰ کو چاہیے کہ دن رات ہر وقت ہر لمحہ نفس کی مخالفت کرے اور کسی بھی وقت نفس سے غافل نہ رہے کیونکہ نفس کافر ہے۔ نیند ہو یا بیداری، مستی ہو یا ہوشیاری، ہر حال میں اس نفس سے دشمنی اور جنگ جاری رکھے کہ یہ جان کے اندر چھپا ہوا چور اور دشمن ہے اور راہ (حق) کا راہزن اور نقصان پہنچانے والا ہے۔ اس کی طرف سے کبھی بھی مطمئن نہ ہو۔ (عین الفقر)

رَجعت کی علامات

میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
راہِ فقر میں طالب کے دِل سے مرشد کی محبت و تڑپ کا نکل جانا اس بات کی علامت ہے کہ طالب اپنے روحانی سفر سے پلٹ جائے گا یعنی اسے رَجعت ہو گی۔
 رَجعت کی ابتدائی حالت باطن میں منفی خیالات سے شروع ہوتی ہے۔ یعنی طالب کے دماغ میں مرشد کامل اکمل اور ہم مجلس ساتھیوں کے بارے میں منفی اور غیر اخلاقی خیالات کا آنا اور پھر طالب کا ان خیالات پر قائم رہتے ہوئے انہیں اپنے دل و دماغ پر سوار کرکے زبان و عمل سے ظاہر کرنا بے ادبی و نافرمانی میں شامل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ عطائے مرشد سے جب مرید سے کرامات کا ظہور ہوتا ہے تو ایسی حالت میں مرید کا تکبر میں آنا، مرید کا رجوعاتِ خلق میں پھنسنا، مخلوق کے پوشیدہ احوال بتا کر مال و دولت بٹورنا، نعوذباللہ خود کو مرشد کے ہم مرتبہ سمجھنا، طالب کا دنیا کی جانب رغبت اختیارکرنا رَجعت کے ظاہری اعمال میں شامل ہے۔ 

رَجعت سے کیسے بچا جائے؟

رَجعت سے بچنے کے لیے سب سے اہم بات جو طالب کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ طالب و مرید ہمیشہ مرشد کی بارگاہ میں عاجز، باادب،وفادار اورباحیا بن کر رہے۔ مرشد پر یقین رکھے اور مرشد کو خلیفہ ٔرسولؐ سمجھتے ہوتے ان کے حکم کی بجاآوری میں کوتاہی نہ کرے اور ہمیشہ مرشد کو خود سے افضل و اعلیٰ سمجھے۔
یاد رکھیں راہِ فقر میں جب تک طالب مرشد کامل اکمل کے زیرِ سایہ فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک نہیں پہنچ جاتا اس وقت تک وہ نفس، دنیا اور شیطان کی چالوں سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا کیونکہ ہر عالم (ناسوت، ملکوت اور جبروت) کا ایک شیطان ہے جو طالب کو اس کی منزل عالم ِلاھوت میں داخل نہیں ہونے دیتا ۔
سیّدنا غوث الاعظم ؓ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے غوث الاعظمؓ! جب تم نے میرے حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا ہے تو ملک، ملکوت اور جبروت کی طرف متوجہ نہ ہو کیونکہ ملک عالم کا شیطان ہے، ملکوت عارف کا شیطان ہے اور جبروت واقف کا شیطان ہے۔ پس جو اِن میں سے کسی ایک پر بھی راضی ہو گیا وہ میرے نزدیک دھتکارے ہوئے لوگوں میں سے ہو گا۔ (الرسالۃ الغوثیہ) 

راہِ حق کا طالب صرف مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ہی اپناسفر بخیر و عافیت جاری رکھ سکتا ہے کیونکہ مرشد وہ عظیم المرتبت روحانی استاد ہے جو تربیت کے تمام اصولوں اور طریقت کے تمام طور طریقوں سے آشنا ہوتا ہے۔ مرشد ایک ایسا روحانی طبیب ہے جو روح کے ساتھ لگی تمام بیماریوں کو جڑ سے نکال پھینکتا ہے۔ چونکہ مرشد کی نگاہ سے فقر و طریقت کی کوئی سطح چھپی نہیں ہوتی اس لیے وہ طالب کو ذکر و تصور اسم ِاللہ ذات اور اپنے کامل تصرف سے رَجعت کے قریب بھی نہیں جانے دیتا۔ لیکن اس کے لیے طالب کا نفس کے معاملے میں ہوشیار اور فرمانبردار ہونا ضروری ہے۔ نافرمان، سرکش، نظامِ شریعت اور نظامِ تصوف کی پاسداری نہ کرنے والے طالب پر مرشد نگاہِ لطف و عنایت نہیں فرماتا۔

ادبِ مرشد کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
جب طالب مرشد کی بارگاہ میں جائے تو اسے چاہیے کہ مرشد کے لیے دِل میں خلوص و محبت رکھے نہ کہ نیکی و بدی پر نظر رکھے۔ پس نیکی اور بدی کی تحقیق جاسوس طالب کا کام ہے، طالب ِ مولیٰ ایسا نہیں کرتے۔ (عین الفقر)

لہٰذا فقر و تصوف کے ہر مقام سے بلاحجاب گزرنے کے لیے صرف مرشد کا ساتھ، اطاعت اور ادب ضروری ہے۔

استفادہ کتب:
۱) الرسالۃ الغوثیہ تصنیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
۲) عین الفقر تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
۳) قربِ دیدار تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
۴) شمس الفقرا تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

 

27 تبصرے “رَجعت | Rijaat

  1. فقر وتصوف میں ’’رَجعت‘‘ سے مراد ’’مرشد سے پلٹ جانا، مرشد سے منہ موڑ لینا اور مرشد کو چھوڑ کر دنیا اور لذاتِ دنیاکی طرف دوبارہ رجوع کر لینا ہے۔‘‘

  2. فقر و تصوف کے ہر مقام سے بلاحجاب گزرنے کے لیے صرف مرشد کا ساتھ، اطاعت اور ادب ضروری ہے۔

  3. راہِ حق کا طالب صرف مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ہی اپناسفر بخیر و عافیت جاری رکھ سکتا ہے

  4. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #rijaat

  5. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #rijaat

  6. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #rijaat

اپنا تبصرہ بھیجیں