ذکر | Zikr


3.9/5 - (9 votes)

ذکر 

تحریر: فرح ناز سروری قادری (ہارون آباد)

لغوی معنی: ذکر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں بھولی ہوئی چیز کو یاد کرنا، کسی چیز کو بار بار ذہن میں لانا، یاد رکھنا اور دہرانا۔
اصطلاحی معنی: دینی اصطلاح میں اللہ کو یاد کرنے کو ذکر کہتے ہیں۔

ذکر کی اقسام

ذکر کی مندرجہ ذیل مختلف اقسام ہیں:

(1) ذکر ِقلبی : 

ذکرِ قلبی سے مراد یہ ہے کہ انسان ہر وقت دل میں اللہ کو یاد رکھے اور دھیان اسی ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف رہے۔ یہ عمل مکمل طور پر مخفی ہوتا ہے اور یہ ذکر کا بہترین درجہ ہے۔ یہ اسی کو نصیب ہوتا ہے جس کی اللہ کے ساتھ محبت بہت شدید ہو۔ یہ ذکر ذاکر کے دل کی گہرائیوں میں رچ بس جاتا ہے اور لاشعوری طور پر بھی یاد ِ الٰہی کا یہ عمل جاری رہتا ہے۔ اس کو ذکر ِخفی بھی کہتے ہیں۔ 

(2) ذکرِ لسانی: 

زبان سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ذکرِ لسانی کہلاتا ہے یہ ذکر کا درمیانہ درجہ ہے۔ اس میں دھیمی آواز زیادہ پسندیدہ سمجھی جاتی ہے۔ ایسے ذکر کے دوران ریاکاری سے بچنا چاہیے۔ نماز پڑھنا، قرآن کی تلاوت اور مسنون دعائیں ذکر ِلسانی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کو ذکرِ جلی بھی کہتے ہیں۔

(3) ذکر ِعملی : 

ذکر ِعملی سے مراد اپنے نیک اعمال سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ عبادات کی تمام اقسام ذکر ِعملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ عملی ذکر میں یہ شامل ہے کہ جن چیزوں سے اللہ نے روکا ہے ان سے رک جایا جائے اور جن امور کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو سرانجام دیا جائے۔ زندگی میں سب سے مشکل ذکر عملی ہے۔ آج مسلمان اس سے بڑی حد تک محروم ہیں۔بقول اقبال :

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری 

ذکر کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 

(1)  فلاح کا باعث:

اللہ کا ذکر کرنا اللہ کی خوشنودی اور اس کے فضل کا باعث اور دنیا و آخرت میں فلاح کا باعث ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: 
وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ  (سورۃ الجمعہ ۔10)
ترجمہ: اور اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔
 آج ہم ذکر سے دوری کی وجہ سے فلاح سے محروم ہیں، جس کی بنا پر ہمارے دل ایک دوسرے کے بارے میں سخت ہوتے جا رہے ہیں۔

(2) معیشت کی فراخی: 

اللہ کا ذکر معیشت کی فراخی اور اللہ کو بھول جانا معیشت کی تنگی کا باعث ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا (سورۃ طٰہٰ۔124)
ترجمہ: اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کی روزی تنگ کر دی جائے گی۔
اس آیت کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ دورِ حاضر میں مسلمانوں کی معاشی تنگی کا سبب اللہ کے ذکر سے دوری ہے۔ اسباب کی کمی نہیں ہے لیکن اللہ کی ذات سے دوری اور یاد سے غفلت کی وجہ سے برکت اٹھا لی گئی ہے جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہو گئی ہے۔
اس آیت کا باطنی پہلو یہ ہے کہ روزی اور معاش سے مراد روح کی غذا اور رزق ہے۔ ظاہری رزق تو مقدر میں جس قدر لکھا جا چکا ہے اتنا ہی ملے گا لیکن روح کی غذا اور رزق اللہ کا ذکر، دیدار اور قرب ہے اور وہ ازل میں اسی نور کے جلووں پر پل رہی تھیں لیکن جب انسان اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے تو روح کو وہ روزی ملنا بند ہو جاتی ہے جس کہ وجہ سے وہ پژمردہ ہو جاتی ہے۔ 

(3) ذکرنہ کرنے کی سزا : 

ذکرنہ کرنے والے کو قیامت کے روز اندھا اٹھایا جائے گا۔ اللہ نے فرمایا:
وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی ۔ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَ قَدْ کَنْتُ بَصِیْرًا  (سورۃ طٰہٰ125۔124)
ترجمہ: اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا پروردگار! دنیا میں تو مَیں آنکھوں والا تھا یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟
اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اس کو باطنی طور پر اندھا اُٹھایا جائے گا۔ اس دنیا میں اللہ کے ذکر سے غفلت کے باعث اس کو اللہ کی معرفت حاصل نہیں ہوئی تھی یعنی وہ قلبی طور پر اندھا تھا اور جس نے اس دنیا میں دیدار نہ کیا اسے آخرت میں بھی دیدار حاصل نہ ہوگا۔

(4)اللہ اسے فراموش کر دے گا : 

اللہ کا ذکر نہ کرنے والے کو اللہ بھی فراموش کر دیتا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
کَذَالِکَ اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَھَا وَکَذَالِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی (سورۃ طٰہٰ ۔126)
ترجمہ: ہاں اسی طرح ہماری آیات کو جب کہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح آج تو بھلا دیا جا رہا ہے ۔
 آج ہماری بدا عمالیوں کی وجہ سے اللہ نے ہمیں فراموش کر دیا ہے اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہے کیونکہ اللہ تب تک اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہیں بدلنا چاہتی۔

(5) ذکر مومنوں کی صفت : 

ذکر مومنوں کا خاصہ اور شعار ہے اس لیے مومنوں کو اللہ کاذکر بکثرت کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُ اللّٰہَ َ ذِکْرًا کَثْیْرًا (سورۃ الاحزاب۔ 41)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کا بکثرت ذکر کیا کرو۔
کیونکہ مومنین کو کوئی بھی چیز اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی نہ نفس نہ دنیا اور نہ شیطان۔ وہ ہر چیز سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔

ذکر کے فوائدو ثمرات 

ذکر کے فوائد و ثمرات درج ذیل ہیں: 

(1) افضل عبادت: 

سب سے افضل عبادت ذکر ہی ہے۔ ارشادِ باری ہے:
وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ (سورۃ العنکبوت ۔45)
ترجمہ: اللہ کاذکر سب سے افضل اور برتر ہے۔
تاہم یہ بات ہر دم پیش ِنظر رہے کہ ذکرِالٰہی قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریقے کے مطابق ہی کرنا چاہیے۔ 

(2) ذکر دل کی زندگی : 

انسان کا دل زندگی اور موت کی علامت ہوتا ہے جس دل میں ذکرِ خداوندی ہو وہ زندہ اور دوسرا مردہ ہوتا ہے۔ ارشاد نبوی ؐ ہے: جو شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ ذکر کرنے والا زندہ اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہوتا ہے ۔

(3) اطمینانِ قلب: 

ذکر ِخداوندی سے دلوں کو اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:
اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ اْلقُلُوْبُ (سورۃ الرعد۔28)
ترجمہ: ’’خبر دار! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔‘‘
 اس سے بہتر ذریعہ ٔاطمینان کوئی نہیں ۔

( 4) قلب کی صفائی: 

انسان خیر وشر کا مجموعہ ہے۔ گناہوں کی وجہ سے انسان کے قلب پر سیاہ دھبے پڑتے رہتے ہیں اگر اللہ کا ذکر کرتے رہیں تو دل سے گناہوں کے سیاہ دھبے مٹتے رہتے ہیں ورنہ دل سیاہ ہی رہتا ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے:
دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
گویا ذکر دلوں کو صاف کرتا ہے جس سے گناہوں کا زنگ اتر جاتا ہے۔

(5)عبادات کی روح :

 ذکر تمام عبادات کا مغز اور روح ہے۔ دراصل تمام اسلامی عبادات ذکر ہی ہیں۔ ارشادِ نبویؐ ہے ’’ میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمام اعمال میں بہترین چیز ہے اور تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ بلند کرنے والی ہے، سونے اور چاندی کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی بڑھ کر۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ضررو بتا دیں۔ فرمایا: ’’وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘‘۔ ( جامع ترمذی ، سنن ابن ِماجہ) 

(6) اللہ کی نظر میں ذاکر کا مقام: 

جو آدمی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہتا ہے وہ خود اللہ کے ہاں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ذکر کرنے والے کا تذکرہ فخر کے ساتھ اپنے فرشتوں کی مجلس میں کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ  (سورۃ البقرہ۔152)
ترجمہ: تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔
اللہ کا یاد رکھنا غیر معمولی خوش قسمتی کی علامت ہے ۔
مندرجہ بالا آیات اور احادیث ِمبارکہ سے یہ بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ ذکر ِاللہ سے بڑھ کر کوئی عبادت افضل نہیں ہے لیکن وہ کون سا ذکر ہے جس سے انسان کو اپنی پہچان نصیب ہوتی ہے اور پھر انسان کو اپنی پہچان نصیب آتے ہی اللہ تعالیٰ کی پہچان نصیب ہو جاتی ہے جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو یعنی خود کو پہچان لیااس نے درحقیقت اپنے ربّ کو پہچان لیا۔ (حدیث شریف)
ایک ذکر لسانی ہے جو زبان سے کیا جاتا ہے۔ اس میں تلاوتِ کلام پاک، کلمہ طیب، درود پاک اور وہ تمام اذکار شامل ہیں جو زبان سے کیے جاتے ہیں۔ زبانی ذکر سے درجات اور ثواب تو حاصل ہوتا ہے لیکن قلب یا مَن کے قفل کو کھولنے والا ذکر، ذکرِ پاس انفاس (سانسوں سے کیا جانے والا ذکر) ہے جسے سلطان الاذکار بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے لیکن ارشادِ نبویؐ ہے ’’حضورِ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی‘‘۔ اور ’’نماز مومن کی معراج ہے‘‘۔ نماز کا ظاہر الفاظ کا مجموعہ ہے جسے مخصوص آداب کے ساتھ پڑھا جاتا ہے لیکن نماز کا باطن دیدار ِ الٰہی اور قرب ِ الٰہی ہے جس کے حصول کے بعد ہی نماز معراج بنتی ہے اور یہ مرتبہ صرف سلطان الاذکار کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔ پس ہر لمحہ ذکر میں مشغول رہنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قرب حاصل ہو سکے۔
سلسلہ سروری قادری کے امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے ذکر ِ پاس انفاس یعنی سلطان الاذکار ھُو کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما دیا ہے جس سے مرد و خواتین یکساں طور پر مستفیض ہو رہے ہیں۔ اسی ذکر کی بدولت اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ورنہ دیگر وظائف اور تسبیحات سے اللہ کی معرفت کا حصول ناممکن ہے۔ متلاشیانِ حق کے لیے دعوتِ عام ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے ذکر و تصور اسم اللہ ذات حاصل کریں اور اپنی ہر سانس اللہ کی یاد اور ذکر میں بسر کر کے اللہ کی معرفت حاصل کریں اور اپنے مقصد ِ حیات کی تکمیل کر کے دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی پائیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ہر لمحہ اپنی یاد میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

24 تبصرے “ذکر | Zikr

  1. ذکر پاس انفاس (سانسوں سےاسم ھو کا ذکر) سب سے اعلٰی اور عارفین کاآخری ذکر ہے

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #zikr

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #zikr

  4. ذکر ِخداوندی سے دلوں کو اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔

        1. سلسلہ سروری قادری کے امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے ذکر ِ پاس انفاس یعنی سلطان الاذکار ھُو کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما دیا ہے جس سے مرد و خواتین یکساں طور پر مستفیض ہو رہے ہیں۔ اسی ذکر کی بدولت اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ورنہ دیگر وظائف اور تسبیحات سے اللہ کی معرفت کا حصول ناممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں