عاجزی Aajzi
تحریر: صاحبزادی منیزہ نجیب سروری قادری
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیف ’’شمس الفقرا ‘‘کے باب توحید میں رقمطراز ہیں:
منصور حلاجؒ نے مقامِ وحدت پر پہنچ کراَنَا الْحَقْ، بایزید بسطامیؒ نے’’سُبْحَانِیْ مَا اَعْظَمُ شَاْنِیْ‘‘اور ابو بکر شبلیؒ نے’’ اَنَا اللّٰہ‘‘کہالیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے آپ کو ’’اَنَا عَبْدُہٗ‘‘ فرماتے ہیں۔جو ذوق و لذت’’اَنَا عَبْدُہٗ‘‘میں ہے وہ اَنَا الْحَقْ، اَنَا اللّٰہ اور سُبْحَانِیْ مَا اَعْظَمُ شَاْنِیْ میں نہیں ہے۔کامل اکمل افراد نے مقامِ عَبْدُہٗ پر ہی ٹھہرنا پسند فرمایاکیونکہ عاشق مقامِ نیاز ہے اور معشوق مقامِ ناز ہے۔ حقیقت میں’’اَنَا عَبْدُہٗ‘‘،اَنَا الْحَقْ اور اَنَا اللّٰہ سے افضل ہے۔(شمس الفقرا)
ہمارے پیارے نبی، رحمت اللعالمین، شفیع المذنبین، خاتم الرسل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب قابَ قوسین بلکہ اس سے بھی کم یعنی قربِ خداوندی تک عشق کے جذبے سے رسائی حاصل کی اور اس حضوری میں بھی عَبْدُہٗ جیسی عاجزی رہی توہم اُمتی کسی بھی نعمت پر تکبر کرنے کا آخر کیا جواز رکھتے ہیں۔
آقائے دو جہاں انسانی عروج کی اس انتہا تک معراج کی رات پہنچے جہا ں تک رسائی کی قوت انسان کے خمیر میں ہے، تب ہی تو فرمایا کہ:
وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (سورۃق۔ 16)
ترجمہ: اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
پھر بھی صد افسوس!کسی بھی ظاہری یا باطنی کمال وخصوصیت پرانسان عاجزی کا دامن چھوڑ دیتا ہے اور شیطانی تکبر میں مبتلا ہو کرخدا کی نظروں میں گر جاتاہے اور اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے۔جبکہ دی ہوئی ہر نعمت توصرف عطائے خداوندی ہے، بندے کا کمال نہیں۔ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (سورۃالرحمن۔13)
ترجمہ:پس تم اپنے ربّ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
معراج کی رات ایک راز تھی اور راز ہی رہے گی،مگروہ بھی کیا کمال تھا کہ محبوب حضرتِ عشق کی بارگاہ میں موجود ہے جدھرعبدہٗ یعنی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عشق کے براق پرعاجزی کا تحفہ لے کر بارگاہِ کبریا میں قابَ قوسین یا اس سے بھی کم یعنی قر ب کی انتہا پر پہنچے ۔’’نہ نظر کسی اور طرف مائل ہوئی،نہ حد سے بڑھی۔‘‘(سورۃ النجم۔ 17) مطلب دونوں جہانوں کی طرف مائل ہوئی نہ ان میں موجود نعمتوں کی طرف۔ لبوں پر حمد و ثنا ہوگی،جس طرح قریب تر وہ جارہے تھے اس میں بھی عاجزی ہوگی۔
تکبر و عاجزی کی قدیم مثال آپ سب جانتے ہیں:جنہوں نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کیا وہ عاجز تھے اور جس نے نہیں کیاوہ متکبر ۔ سالوں کی عبادت ضائع گئی، یعنی عبادت ضمانت نہیں نجات کی اگر اس میں ریاکاری، تکبر یا اوصافِ رذیلہ کی ملاوٹ شامل ہو۔ بلکہ ڈھونڈو وہ مرشد کامل اکمل جو نفس کے ناسور سے پاک کرائے اور عبادت میں خشوع و خضوع کی کیفیت عطا کرے۔ ڈھونڈو وہ جامع نور الہدیٰ مرشد جو گردن کو ربّ العزت کی بارگاہ میں جھکائے رکھے اور طالب کوبھی مٹی جیسی عاجزی عطا کرے ۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے منافقین کے ناموں کا رازدار بنایاتھا،ان سے حضرت عمر فاروقؓ جیسے جید صحابیؓ نے پوچھا ’’کیا میرا نام بھی ان میں تو نہیں؟‘‘ یہ ہوتی ہے عاجزی کہ امامِ عدل، مرادِرسول، امیر المومنین خوفزدہ ہیں۔۔ اس طرح کی عاجزی پار لگاتی ہے ۔
ایک مرتبہ رسولِؐ خدا نے کسی صحابیؓ سے دریافت کیا ’’تم کو موت کس قدر قریب معلوم ہوتی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ’’جب میں ایک نماز پڑھ لیتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ دوسری نماز نصیب ہوگی یا نہیں‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جب میں ایک سلام پھیر لیتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ دوسرا سلام پھیر پاؤں گا یا نہیں۔‘‘
جہاں ایک طرف صحابہ کرام ؓکی عاجزی کا یہ عالم تھا وہیں ابو جہل اور ابو لہب کا غرور ذرا ملاحظہ کریں کہ وہ کتنے بڑے بدبخت تھے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر دو نوجوان لڑکے جو ابوجہل کی تاک میں تھے اس پر حملہ آور ہوئے اور شدید زخمی کر کے گرا دیا۔ جب کفار پسپا ہو کر بھاگ گئے اور ایک صحابیؓ ابو جہل کا سر تن سے جدا کرنے والے تھے اس وقت اس نے آرزو کی کہ میرا سر کندھوں کے قریب سے کاٹا جائے اور پوری گردن سر کے ساتھ رہنے دی جائے تاکہ جب لوگوں کے سر ایک جگہ رکھے جائیں تو مجھ سردار کا سر سب سے اونچا نظر آئے۔ اِسی طرح ابو لہب کہتا تھا میں اسلام قبول کر لیتا لیکن اللہ سے مجھے یہ شکایت ہے کہ اس نے چچا کو چھوڑ کر بھتیجے کو نوازا۔ یہ غرور ہے، جس کی وجہ سے انسان بدبخت بن جاتا ہے۔
میرے مرشد کریم سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شبیہِ غوث الاعظم، آفتابِ فقر، شانِ فقر اور سلطان الذاکرین کے القاب عطا ہوئے اور آپ کا مرتبہ’’سلطان الفقر‘‘ ہے۔ ان سب کے باوجود آپ مدظلہ الاقدس اپنے آپ کو عام انسان سے بھی کم سمجھتے ہیں اور آپ کے مریدین اس بات کے گواہ ہیں۔ اولیا اللہ کی عاجزی اور شفقت کی بنا پر لوگ ان کی طرف مائل ہوتے ہیں اور عشق کا جام پی کر وصال اور دیدار کی نعمت حاصل کرتے ہیں۔ سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے اس ضمن میں ارشاد مبارک ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے بڑے عارف تھے پھر بھی وہ ساری ساری رات سجدے میں گر کر روتے تھے اور اپنے اور اپنی امت کے لیے اللہ سے توبہ استغفار کرتے تھے۔
عاجزی اور نیت کا اخلاص جتنا زیادہ ہوتا ہے، بندہ اتنی جلدی اللہ کے قریب ہو جاتا ہے اور جتنا قریب ہوگا اتنا ہی عاجزی میں اضافہ ہوگا۔ بشرطیکہ نیت میں اخلاص بھی ہو ۔
آپ مدظلہ الاقدس مزید فرماتے ہیں:
عاجزی کرنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوتا اور تکبر کرنے والا سب سے پہلے گمراہ ہوتا ہے۔ شیطان عاجزی والے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
خاص بنو ،عام رہو۔ یہی کامیابی ہے۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:
سو ہزار تنہاں توں صدقے، جیہڑے منہ نہ بولن پھکا ھوُ
لکھ ہزار تنہاں توں صدقے، جیہڑے گل کریندے ہکا ھوُ
لکھ کروڑ تنہاں توں صدقے، جیہڑے نفس رکھیندے جھکا ھوُ
نیل پدم تنہاں توں صدقے باھو،ؒ جیہڑے ہووَن سونا سڈاون سکا ھوُ
ترجمہ: میں ہزار بار ان طالبوں کے صدقے جائوں جو راہِ فقر میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب پر صبر اور شکر کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں اور کوئی گلہ نہیں کرتے ۔ میں لاکھوں بار ان کے قربان جاؤں جووعدے کے پکے ہیں اور جو بات ایک بار کہہ دیتے ہیں اس پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ کروڑوں بار اُن پر واری اور صدقے جاؤں جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں اور اربوں بار اُن کے قربان جاؤں جو ہر وقت دیدارِ الٰہی میں غرق رہتے ہیں ۔ وہ اپنے مرتبۂ قربِ الٰہی کی بدولت سونے کی طرح ہوتے ہیں لیکن عاجزی و انکساری کی وجہ سے عوام میں سکہ یعنی معمولی آدمی کی طرح رہتے ہیں اور اپنی بڑائی ظاہر نہیں کرتے۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ لاقدس اپنی تصنیف ’’حیات وتعلیمات سیدنا غوث الاعظمؓ‘‘ میں محبوبِ سبحانی، قطبِ رباّنی، سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے اقوال و فرمودات درج کرتے ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:
اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلت اختیار کر اور اپنے آپ کو اس کے سامنے جھکا دے اور اپنی تمام حاجتوں کو اسی کے سامنے پیش کر اور کوئی عمل اپنے نفس کے لیے نہ کر اور اس سے ملاقات افلاس کے قدموں پر کر۔ (الفتح ربانی مجلس۔ 19 )
تم اللہ کی طرف رجوع کرو اور توبہ کرو۔ اس کے سامنے گریہ و زاری کرو اور اپنی آنکھوں اور دل کے آنسوؤں سے اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرو۔ رونا عبادت ہے کیونکہ وہ کمال درجہ کی عاجزی اور ذلت ہے۔ (الفتح ربانی مجلس۔ 44)
اے اللہ کے بندے! تو اولیا اللہ کا خادم اور غلام بن جا اور ان کے سامنے خاکِ پا بن جا۔ پس جب تو اس پر ہمیشگی (استقامت) کرے گا تو سردار بن جائے گا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے متقی بندوں کے سامنے جھکتا ہے تو اللہ اسے دنیا اور آخرت میں بلند مقام عطا فرماتا ہے۔اور جب تو عام لوگوں کی تکالیف برداشت کر لے گا تو تجھے اللہ تعالیٰ رفعت عطا کرے گا اور تجھے سرداری عطا کرے گا۔ پھر کیا کہنا ان کا جو مخلوق میں سے خواص اولیا اللہ کی خدمت کر ے۔ (الفتح ربانی مجلس ۔54)
ایک دفعہ حضرت ذوالنون مصریؒ کہیں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں چند لڑکے کھیل رہے تھے۔آپ کو دیکھ کر ایک لڑکے نے کہا:’’دیکھو، منافق جا رہا ہے۔‘‘یہ سن کر آپ رک گئے اوراپنے نفس سے مخاطب ہو کرفرمایا:
’’سن لیا تو نے اپنے کانوں سے،میں تجھے ہزار بار کہتا تھا کہ تومنافق ہے مگر تجھے یقین نہیں آتا تھا،اب یقین آگیا۔یہ مسلمانوں کے بچے ہیں اور مسلمانوں کے بچے جھوٹ نہیں بولا کرتے۔‘‘
یہ ہوتی ہے مٹی جیسی عاجزی ۔جب تک انسان اپنے آپ کو صحیح سمجھتا رہتا ہے وہ بارگاہ ِخداوندی میں غلطی پر ہوتا ہے اور جب تک عبادت اور نیک اعمال کر کے بھی ڈرتا رہتا ہے تو وہ اللہ کی ذات کے قریب ہوتاہے۔میرے مرشدسلطان الفقرہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ایک مرتبہ نصیحت فرمائی :
جو ڈرتا ہے وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا ۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ پھلدار درخت جھکا ہوا ہوتا ہے یعنی اللہ جتنا نوازے اتنی عاجزی میں چلے جاؤ۔
اپنی ہر عبادت اور نیک عمل کی دل میں نفی اللہ کے قریب کر دیتی ہے جیسا کہ مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
نیست عیب ار عیب ھای مردم بینی
بلکہ عیب آن است کاندر خود نبینی
ترجمہ: یہ کوئی عیب نہیں اگر تو لوگوں کے عیب دیکھے، بلکہ عیب تو یہ ہے کہ تو اپنے اندر (کے عیب ،نقص) نہ دیکھے ۔
یعنی اصل کمال یہ نہیں کہ دوسروں کے عیب آپ پر کھل جائیں بلکہ کمال تو یہ ہے کہ آپ کی نظردوسروں کی خوبیوں پر رہے لیکن اپنے معاملے میں آپ کی نظر صرف گناہوں، کمزوریوں اور عیبوں پر رہے۔
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ ہمیں عاجزی کی ڈھال عطا فرمائے اور شیطانی وسوسوں اور نفس کے وار سے بچائے ۔(آمین)
تاہم جیسے کوئی قابل سے قابل طبیب بھی اپنا علاج خود نہیں کر سکتا بعینہٖ کوئی شخص خود اپنے نفس کا تزکیہ یعنی نفس کی بیماریوں سے چھٹکارا پاکر اسے پاک صاف نہیں کرسکتا۔ اس اَمر کے لیے سنتِ نبویؐ کے مطابق ایک ایسے روحانی پیشوا کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف نفسانی امراض سے واقف ہو بلکہ ان سے دائمی چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی جانتا ہو۔ ایسا روحانی استاد جو خود اس راستہ پر چل کر کامیاب ہو چکا ہو اور اپنے مریدین کو بھی وہ روحانی قوت عطا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو جس کی بدولت وہ تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور تجلیۂ روح جیسے روحانی درجات پاسکیں۔ وہ روحانی پیشوا، استاد، مرشد کامل اکمل، ولیٔ کامل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ لاقدس ہیں جو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور اکتیسویں شیخِ کامل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس امام الوقت اور مسندِتلقین و ارشاد پرفائز ہیں اور اپنی بارگاہ میں آنے والے ہر طالبِ حق کو اپنی نورانی شخصیت اور روحانی صحبت سے مستفید فرماتے ہیں۔ لہٰذا سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے بیعت یا بغیر بیعت کے اسمِ اعظم اسمِ اللہ ذات فی سبیل اللہ حاصل کر کے نفس کے تزکیہ سے معرفت ودیدار اور وصال جیسی فقر کی نعمتوں سے مالا مال ہوں۔ اللہ بس ،ماسویٰ اللہ ہوس!
استفادہ کتب
۱۔شمس الفقرا: تصنیفِ لطیف سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۲۔ابیاتِ باھوؒ کامل: تحقیق، ترتیب و شرح سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
۳۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین: ترتیب و تدوین، مسز عنبرین مغیث سروری قادری