بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen
قسط نمبر : 15 مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری
13اپریل 2010
فرقہ واریت
فرقہ واریت کی طرف بات چل نکلی توفرمایا: اللہ نے تو مذہب کا نام بھی نہیں لیا۔ وہ توکہتاہے کہ میں نے دین کو غالب کرنا ہے۔ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کو چھوڑ دیا ہے بلکہ جس فرقے کو مانتے ہیں اس کے امام کو پیغمبروں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام بھی مجبوری میں لیتے ہیں کیونکہ اگر نہ لیں تو مسلمانوںنے ہی انہیں مارنا شروع کر دینا ہے۔
اپنی ذات کی نفی
فرمایا:جب انسان خود ہی نہ سمجھنا چاہے تو اللہ کیسے سمجھا سکتا ہے؟ سمجھنے کے لیے اپنی ذات کی نفی کرنی پڑتی ہے۔طالب جب اپنی ذات سے نکلے گا اسے اللہ کی سمجھ آنا شروع ہو جائے گی۔ جب تک اپنے چراغ کی طرف نظر ہو سورج کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے؟
انسان کی زبان سے اللہ کی بات
کسی نے کہا کہ فلاں بندے نے مجھے یہ کہاہے۔۔۔ فرمایا: کبھی کبھی کسی انسان کی زبان سے اللہ پاک کوئی بات نکلوا دیتا ہے جیسے کوئی دیوار کے پیچھے سے بات کر رہا ہو تو سننے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ دیوار نہیں بول رہی بلکہ کوئی اور دیوار کے پیچھے سے بول رہا ہے۔
حکمران خود محتاج ہیں
بات توکّل کی طرف چل نکلی توفرمایا: سارے ملک میں بے توکلی پھیلی ہوئی ہے۔ ہم کہتے ہیں حکمران دے گا ، حکمران ہمارا خدا بن گیا۔ یہ تو بیچارے خودمحتاج ہیں ۔۔۔یہ کیا کر سکتے ہیں!
انسان خود مرشد تک پہنچ جاتا ہے
کسی نے مرشد کی ضرورت پر بات کی توفرمایا:کسی بندے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس نے اللہ تک کیسے پہنچنا ہے۔ لیکن جب کوئی اللہ تک پہنچنا چاہتا ہے، وہ خود بخودمرشد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث ہے ’’انسا ن کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ طلب کرتا ہے۔‘‘ جب انسان اللہ کی طلب کرتا ہے تو اللہ اپنے طالب کو اُس تک پہنچا دیتاہے جو اس کا راستہ جانتاہے۔اللہ کا راستہ جاننے والے کو ہی مرشد کہتے ہیں۔
اللہ سے لڑ کر وِلایت پانا
فرمایا: کئی بندے اللہ سے لڑ کر وِلایت پا گئے، اللہ سے لڑ کر اللہ تک پہنچ گئے کہ یا اللہ تو نے مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں پیدا کیوں نہیں کیا۔اللہ پاک نے اُن کی نیت دیکھتے ہوئے اُنہیں نواز دیا۔
صراطِ مستقیم
کسی نے پوچھا کہ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ فرمایا: صراطِ مستقیم مانگنے کا مطلب اللہ کو مانگنا ہے اور جب انسان اللہ کو مانگتا ہے تو اللہ اسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچا دیتا ہے۔ اِس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات صراطِ مستقیم ہوئی۔جاہل وہ ہے جو صراطِ مستقیم کو نہیں جانتا۔ اس کا مطلب ہوا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہیں پہچانتا،وہ جاہل ہے۔انسان کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو، ہدایت تو اللہ کے پاس ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ ۔ (سورۃ القصص۔ 56)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (راہِ ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں اُسے راہِ ہدایت پر آپ خود نہیں لاتے بلکہ جسے اللہ چاہتا ہے (آپ کے ذریعے) راہ ِہدایت پر چلا دیتا ہے، اور وہ راہ ِ ہدایت پانے والوں سے خوب واقف ہے۔
انسان جب اپنی نفی کر دیتا ہے تو صراطِ مستقیم پا لیتا ہے۔
مرتبۂ احسان
کسی نے پوچھا احسان کیا ہے؟ فرمایا: حدیثِ جبرائیل بہت مشہور ہے۔ ایک دفعہ حضرت جبرائیلؑ انسا نی شکل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں تشریف لائے اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سوال کیا: احسان کیا ہے؟
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ کو دیکھ کر عبادت کرنا، اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو یہ خیال کرنا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
پیچیدہ مخلوق
فرمایا: اللہ کی پیچیدہ ترین مخلوق انسان ہے۔ انسا ن خود کائنات ہے۔ اللہ میں بھی پہلا حرف ’’الف‘‘ ہے اور انسان میں بھی۔ اللہ تب تک انسان کو موت نہیں دیتا جب تک ظاہر باطن ایک نہ ہو جائے۔ظاہر تو پہلے ہی سامنے ہے باطن نے ہی باہر آنا ہوتا ہے۔ بڑھاپے میں انسان کو کنٹرول نہیں رہتا تو اس کا اندر باہر آجاتا ہے۔ جوانی میں تو انسان کنٹرول کر لیتا ہے لیکن جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو پھر سارا کچھ باہر آ جاتا ہے۔
ذاتِ الٰہی کا صفات پر غالب آنا
فرمایا: کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ہر کسی میں ایک صفت رکھی گئی ہے۔ مگر انسان میں سب صفات اکٹھی کی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے اگر انسان شیطان بن جائے تو شیطان بھی کان پکڑ لیتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات تب ہی ہے اگر وہ شر کو اپنے اندر سے نکال پھینکے اور خیر کو غالب کرے۔ جب خیر غالب آتی ہے تو انسان کی ہر چیز اور ہر کام عبادت ہوتا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ انسان تمام صفات پر اس کی ذات کو غالب رکھے۔ جو صفات میں پھنس جاتا ہے وہ ذات تک پہنچ نہیں پاتا۔ ذات کا طالب ہونا چاہیے صفات کا نہیں۔
اسمِ اعظم کدھر ہے؟
فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اسمِ اعظم سورۃالبقرۃ کے آخر میں اور سورۃ آلِ عمران کے شروع میں ہے۔ حدیث میں ’’البقرۃ و آل عمران ‘‘ہے۔ اس طرح یہ ’’ھو‘‘ ہوا۔
’’ھو‘‘ اسمِ ضمیر ہے
’’ھو‘‘ اسمِ ضمیر ہے، اسمِ ضمیر وہ ہوتی ہے جو کسی کی طرف اشارہ کرے۔ ’’ھو‘‘ اللہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
جلد بازی
فرمایا: طالب جلد باز نہیں ہوتا۔ وہ کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرتا۔ جذباتی ہو کر فیصلہ کرنے والا جلدی بھاگ جاتا ہے۔ طالب جب فیصلہ کرتا ہے تو اس پر ثابت قدم رہتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ (سورۃ الفصلت۔30)
ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا ربّ اللہ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
طالب کب تک ٹھیک چلتا رہتا ہے؟
کسی نے پوچھا کہ طالب کب تک ٹھیک راہ پر چلتا رہتا ہے؟ فرمایا: طالب اگر مرشد کی کی گئی تربیت کے مطابق چلتا رہے توصحیح رہتا ہے۔ جب اس سے اعراض کرتا ہے تو نقصان اٹھاتا ہے۔
ذکر اور تصور
کسی نے پوچھا طالب کے لیے ذکر کیا ہے اور تصور کیا ہے؟
فرمایا: آپ جس سے محبت کرتے ہیں جب اس کے متعلق سوچتے ہیں تو اس کی شبیہ سامنے آ جاتی ہے۔ یہ سوچنا ذکر ہے اور آنکھوں کے سامنے آنا تصور ہے۔ طالب کی کامیابی یہ ہے کہ سوچ میں بھی اللہ ہو اور تصور میں بھی اسمِ اللہ ذات ہو۔
حضورؐ کا سایہ نہیں تھا
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ کا سایہ نہیں تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نور ہیں۔ سائنس اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ سایہ اس کا بنتا ہے جس سے روشنی ٹکرا کر واپس آجائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جسم لطیف تھا، نور لطیف ہوتا ہے۔ اس لیے سایہ نہیں تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سایہ اس لیے نہیں تھا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سایہ مبارک پر کسی کا پاؤں نہ آجائے(معاذاللہ)۔
نظریہ وحدت الوجود
نظریۂ وحدت الوجود اور انسانِ کامل کو سب سے پہلے سید الشہدا حضرت امام حسینؓ نے اپنی کتاب ’’مرآۃ العارفین‘‘ میں بیان کیا۔ اس کے بعد اولیاکرام تھوڑا بہت لکھتے رہے لیکن تفصیل کے ساتھ جس ہستی نے اس کو بیان کیا وہ ’’ابنِ عربی ؒ‘‘ ہیں۔حضرت امام زین العابدینؓ نے حضرت امام حسینؓ سے سورۃ الفاتحہ کے متعلق سوال کیا تو اس کے جواب میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ نے’’مرآۃ العارفین‘‘ تصنیف فر مائی۔
صحابہؓ کا قبلہ
جب اللہ نے قبلہ کی تبدیلی کا حکم دیا تو صحابہ کرامؓ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دورانِ نماز ہی سمت تبدیل کرنا شروع کر دی۔ اب صحابہ کرامؓ کو تو نہیں پتہ تھا کہ اللہ کا حکم آگیا ہے اور نہ انہوں نے یہ سوچا کہ اللہ کا حکم تو مسجد اقصیٰ کی طرف ہے، ہم کیوں تبدیل کریں۔ بلکہ صحابہ کرام ؓنے توحضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھتے ہوئے فوراً سمت تبدیل کر لی۔ نماز مکمل ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام صحابہ کرامؓ کو اللہ کے حکم سے آگاہ کیا۔
اب صحابہ کرامؓ کے قبلہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی تھے۔ ان کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حکم اہم تھا اس لیے انہوں نے یہ کیا۔ اس لئے طالب کے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنا رُخ مرشد کی طرف کرے پھر سب منزلیں حاصل ہو جاتی ہیں۔
(جاری ہے)