راہِ فقر میں مرشد پر یقین Raah-e-Faqr mein Murshid par yaqeen
دوسرا اور آخری حصہ تحریر:سلطان محمد عبد اللہ اقبال سروری قادری
سید علی بن وفاؒ فرماتے ہیں:
صوفیا کی بات ماننے میں خیر ہی خیر ہے اور سلامتی ہے، ان کے متعلق حسنِ ظن غنیمت ہے۔ ان پر اعتراض زہرِقاتل ہے۔ جو صوفیا کا انکار کرتے ہیں ان کا خاتمہ خراب ہوتا ہے۔ (لطائف المنن)
ملفوظات خواجہ نظام الدّین اولیاؒ میں ہے:
اس راہ کی لغزش کی سات قسمیں ہیں: اعراض، حجاب، تفاصل، سلبِ مزید، سلبِ قدیم، تسلی، عداوت۔ ان قسموں کی تمثیل اور تفصیل میں فرمایا کہ (جیسے) دو دوست ہوں، عاشق اور معشوق۔۔۔
ایک دوسرے کی محبت میں ڈوبے ہوئے۔ اس دوران اگر عاشق سے کوئی حرکت یا کوئی بات یا فعل ایسا ہو جائے جو اس کے دوست کی پسند کا نہ ہو تو وہ دوست اس سے اعراض کرتا ہے یعنی منہ موڑ لیتا ہے۔ پس عاشق پر واجب ہے کہ اُسی وقت استغفار میں مشغول ہو جائے اور معذرت چاہے اور یقینا اس کا دوست اس سے راضی ہو جائے گا۔ تھوڑی سی بے توجہی جو ہوئی تھی، جاتی رہے گی۔ اور اگر وہ محبت کرنے والا اس خطا پر اصرار کرے گا اور عذر پیش نہیں کرے گا تو وہ اعراض حجاب تک پہنچ جائے گا۔
معشوق ایک حجاب (پردہ) درمیان میں لے آئے گا۔ جیسے ہی خواجہؒ حجاب کی تمثیل میں اس بات پر پہنچے ہاتھ اونچا کیا اور آستین چہرہ مبارک کے سامنے کر لی اور فرمایا کہ مثلاً اس طرح کا حجاب محب اور محبوب کے درمیان ہو جائے گا! پس محب پر واجب ہوگا کہ معذرت کی کوشش میں رہے اور توبہ کرے۔ اور اگر اس معاملے میں سستی کرے گا تو وہ حجاب تفاصل میں بدل جائے گا۔ پھرکیا ہو گا؟ یہ کہ وہ دوست اس سے جدائی اختیار کرلے گا۔ بس شروع میں اعراض سے زیادہ نہیں تھا۔چونکہ معافی نہیں چاہی، حجاب ہو گیا اور جب اس ناپسندیدگی پر اَڑا رہا تو تفاصل ہو گیا (دوری ہو گئی)۔ اگر اس کے بعد بھی وہ دوست معافی نہ مانگے تو سلبِ مزید واقع ہو گا یعنی اس کے اوراد اور طاعت و عبادت کے ذوق میں جو افزودگی تھی وہ واپس لے لی جائے گی۔ پس اگر اس پر بھی عذر نہ کرے اور اس ہٹ دھرمی پر جما رہے تو سلبِ قدیم ہو گا کہ وہ طاعت اور وہ راحت جو ’’مزید‘‘ سے پہلے میسر تھی وہ بھی چھن جائے گی۔ پس اگر یہاں بھی توبہ میں کسر رَہ جائے تو اس کے بعد تسلی ہو گی، تسلی کسے کہتے ہیں؟ یعنی اس کے دوست کا دل اس کی جدائی پر مطمئن ہو جاتا ہے۔ پس اگر پھر بھی توبہ میں سستی ہو تو عداوت پیدا ہو جاتی ہے اور محبت جو تھی وہ عداوت میں بدل جاتی ہے۔ (فوائد الفواد)
امام شعرانیؒ فرماتے ہیں:
میرے مرشد فرمایا کرتے ہیں کہ ادنیٰ درجہ کے صوفی کے ساتھ ایسا روّیہ روا رکھنا چاہیے کہ ان کا منکر ان کو اہلِ کتاب کی طرح گمان کرے نہ ان کی تصدیق کرے نہ ان کی تکذیب کرے۔ (تصوف اور صوفیا)
شیخِ کامل کی پیروی لازم ہے۔ (انوارِ قدسیہ)
حضرت بہاؤالدین زکریاؒ فرماتے ہیں:
ہردری (ہر در پر جانے والا) اور ہر سری (ہر کسی کے آگے جھکنے والا) نہ بنو، ایک دَر پکڑو اور مضبوط پکڑو۔
یہ حقیقت ہے کہ جن کا یقین مضبوط اور کامل ہوتا ہے وہ کبھی نہیں ڈولتا جبکہ کمزور یقین والے ڈول جاتے ہیں۔
فوائد الفواد میں ہے:
حاضرین میں سے کسی نے یہ بات بیان کی کہ ایک شخص تھا، بڑی صلاحیت والا اور درویشوں کی خدمت کا بڑا مشتاق۔ اس سے میں نے کہا کہ تم خواجہ کے مرید کیوں نہیں ہو جاتے؟ اس نے جواب دیا کہ میں ایک دفعہ بیعت کی نیت سے وہاں گیا تھا۔ وہاں میں نے نفیس کپڑے بچھے ہوئے اور شمعیں جلتی ہوئی دیکھیں۔ میرا اعتقاد ڈانواںڈول ہوگیا، میں واپس چلا آیا۔ خواجہؒ نے جب یہ بات سنی تو حاضرین کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہاں جامہ ہائے خواب اور شمعیں کب تھیں؟ اس کے بعد مسکرا کر فرمایا کہ چونکہ بیعت کی دولت اس کی قسمت میں نہ تھی تو اس کو ایسا ہی دکھایا گیا۔ اس دوران بندے نے عرض کی کہ جامہ ہائے خواب اور شمعیں اگر ہوں بھی تو اعتقاد کیوں خراب کیا جائے؟ زبانِ مبارک سے فرمایا کہ بعض کا اعتقاد ذرا سی چیز سے بدل جاتا ہے اور بعض کا اعتقاد مضبوط ہوتا ہے، ارادت میں پوری طرح پکا!
اگر طالب یہ دلیل بنا لے کہ وہ یقین کو کبھی ڈولنے نہیں دے گا تو اللہ مدد فرماتا ہے۔ پھر اللہ اس کو توفیق دیتا ہے اور وہ اس راہ پر چلتا رہتا ہے اور منزلِ مقصود پر پہنچ جاتا ہے۔ ایک حکایت بیان کی جاتی ہے:
ایک روز صبح کے وقت کوئی دیوانہ ایک دروازے پر کھڑا تھا جب دروازہ کھولا گیا تو خلقت باہر آئی۔ ہر شخص کسی جانب روانہ ہو گیا، کوئی دائیں طرف، کوئی بائیں طرف، کوئی سامنے، ہر ایک کسی طرف چلا گیا۔ دیوانے نے جب یہ دیکھا تو بولا کہ یہ لوگ پراگندہ اور الگ الگ اور مخالف جاتے ہیں، جب ہی تو کسی ٹھکانے پر نہیں پہنچتے۔ اگر سب ایک راہ جائیں تو مقصود تک پہنچ جائیں۔
مرشد نے جب کسی طالب کو نوازنا ہوتا ہے تو اس کو آزماتا ضرور ہے جیسے دنیا میں قاعدہ ہے کہ جب طالبِ علم کو اگلی کلاس میں جانا ہوتا ہے تو امتحان سے گزرنا پڑتا ہے اور پاس کرنا پڑتا ہے پھر اگلی کلاس میں جانے دیا جاتا ہے۔ مرشد بھی اسی طرح آزماتا ہے کہ طالب کا مجھ پر یقین کتنا ہے۔
ایک شخص حضرت شبلیؒ کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ میں آپؒ کا مرید ہونا چاہتا ہوں۔ حضرت شبلیؒ نے فرمایا کہ ایک شرط پر تیری ارادت قبول کرتا ہوں کہ میں جو کہوں تو وہی کرے۔ مرید بولا میں ایسا ہی کروں گا۔ حضرت شیخ شبلیؒ نے پوچھا تو کلمہ طیبہ کس طرح پڑھتا ہے۔ مرید نے جواب دیا کہ میں اس طرح پڑھتا ہوں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔ حضرت شبلیؒ بولے ’’اس طرح پڑھ: لا الہ الا اللہ شبلی رسول اللہ‘‘ مرید نے فوراً اسی طرح پڑھ دیا۔ اس کے بعدحضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ شبلی آنحضرتؐ کے ادنیٰ چاکروں میں سے ایک ہے۔ اللہ کے رسولؐ تو وہی ہیں۔ میں تو تیرے اعتقاد کا امتحان کررہا تھا۔
اگر ایک طالب کا یقین پختہ ہو تو وہ بھی ظاہر ہو کر رہتا ہے اور اگر ناقص ہو تو وہ بھی ظاہرہو کر رہتا ہے کیونکہ مرشد کسوٹی ہوتا ہے جو صحیح اور غلط کو الگ الگ کرتا ہے۔ امام فخرالدین رازیؒ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
ابتدا میں مرید کی مثال اس گٹھلی کی طرح ہوتی ہے جس میں درخت چھپا ہوتا ہے جو اس جگہ طریقت میں صدق اور کذب (جھوٹ) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو اس کی سچائی پھل آور ہوتی ہے اور اس قدر پھل دیتی ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے زیادہ معزز ہو جاتا ہے اور وہ اس کے پھل سے نفع اندوز ہوتے ہیں بلکہ وہ اس کے تمام شہر اور ملک میں پھیل جاتا ہے اور وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں اور یوں اس کی سچائی اور صالحیت عام و خاص پر ظاہر ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ اگر وہ دینی نیکوکاری کو ان سے چھپانا چاہے تو چھپا نہیں سکتا اور اگر طریقت کی محبت میں مرید جھوٹا ہو تواس کے جھوٹ کے درخت کی شاخیں پھیل جاتی ہیں اور اس کی منافقت عام ہو جاتی ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنے ساتھیوں سے آگے بڑھ جاتا ہے اور پورے شہر بلکہ ملک میں اس کی تشہیر ہوتی ہے اور ان کے سامنے اس کی منافقت اور ریاکاری ظاہر ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اگر وہ سچے آدمی کی صورت میں ظاہر ہونا چاہے تو اس پر قادر نہیں ہوتا کیونکہ اس کے گھٹیا کام اس کو جھٹلاتے ہیں اور طریقت اسے ذلیل و رسوا کرتی اور چھوڑ دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کی سزا کے طور پر وہ عام لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اسے سچائی کی خوشبو عطا کر کے واپس لے لیتا ہے اور اس کے بارے میں تمام لوگ کہتے ہیں فلاں شخص کا نام فقرا کی فہرست سے نکال دیا گیا اور اس میں ان لوگوں کی خوشبو میں سے کچھ بھی باقی نہیں۔ اب اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ شملہ لٹکاتا ہے، بالوں کو بڑھاتا ہے، ادنیٰ لباس پہنتا ہے اور فقرا کا ٹاٹ والا لباس زیبِ تن کرتا ہے، لیکن لوگ اسے ادب سے نہیں دیکھتے اور اس سے فقر کا سلب کسی شخص پر پوشیدہ نہیں ہوتا۔ اے بھائی! اللہ والوں کے راستے کی طلب میں اپنے معاملے کو صدق پر استوار کر، ورنہ طریقت تجھے چھوڑ دے گی اگرچہ زیادہ وقت گزر چکا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی تجھے ہدایت عطا کرنے والا ہے۔ جب تم نے یہ بات جان لی تو میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کہتا ہوں کہ مرید کو شیخ کی محبت میں سچا ہونا چاہئے کیونکہ راہ ِسلوک میں پوشیدگی کے وقت وہی اس کا رہنما ہے جس طرح تاریک راتوں میں حاجیوں کیلئے کوئی رہنما ہوتا ہے۔ محبت کو اطاعت لازم ہے جب کہ عدم محبت کو مخالفت لازم ہوتی ہے اور جو شخص اپنی دلیل کی مخالفت کرے وہ بھٹک جاتا ہے، اس کا سفر ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ شیخ کی محبت میں سچائی کا معیار یہ ہے کہ کوئی پھیرنے والی چیز اسے شیخ سے نہ پھیرے نہ تلواریں اور نہ ہی بناوٹی محبت۔ (آدابِ مرید کامل)
جب طالب مرشد کے خلاف وساوس کو اپنے اندر جگہ دیتا ہے تو پھر وہ مرشد سے کسی قسم کا فیض حاصل نہیں کر پاتا۔ حضرت سہل بن عبداللہؒ فرماتے ہیں:
بصرہ میں ایک شخص ولایت میں معروف تھا اور وہ روٹیاں پکاتا تھا۔ میرے ساتھیوں میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا تو آگ کے شعلوں سے ڈرنے کی وجہ سے اس کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا پایا۔ اس نے دل میں کہا اگر یہ ولی ہوتا تو اسے آگ کے شعلے نقصان نہ دیتے۔ اس شیخ نے کہا ’’اے میرے بیٹے! تو نے مجھے حقیر جانا پس تو میرے کلام سے نفع حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘ وہ حضرت سہلؒ کے پاس آیا اور واقعہ سنایا تو انہوں نے فرمایا: جو شخص کسی فقیر کو حقیر جانتا ہے وہ اس کے فیض سے محروم ہو جاتا ہے۔ دوبارہ ان کے پاس عزت و احترام کے ساتھ جاؤ۔ چنانچہ وہ دوبارہ گیا تو ان کی ملاقات سے فیض حاصل کیا اور دل سے توبہ کی کہ وہ مرتے دم تک کسی فقیر کی کسی حالت پر اعتراض نہیں کرے گا۔
پس معلوم ہوا کہ جو مرید بزرگوں کی صحبت احترام کے بغیر اختیار کرتا ہے وہ ان کے فیوض اور ان کی نظر کی برکات سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر اس پر ان کے آثار سے کوئی چیز ظاہر نہیں ہوتی اگرچہ وہ اس کے لئے تکلف کرے بلکہ اس کے افعال اس کے دعویٰ کو جھٹلاتے ہیں۔
بعض مریدین جنہیں کچھ حاصل نہیں ہو پاتا وہ یہ الزام بھی مرشد پر لگاتے ہیں (معاذ اللہ) کہ وہ ناقص ہے۔ جبکہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّ اللّٰہَ یَضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَ یَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ (سورۃ الرعد۔27)
ترجمہ: کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔
اگر کسی کو راستہ نہیں مل رہا تو وہ دراصل اللہ کی طرف رجوع ہی نہیں کر رہا۔ محمد شناویؒ سے سنا، آپ فرماتے تھے:
اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو انعام کیا ہے اس میں یہ بات بھی ہے کہ میں جب بھی اپنے شیخ کے ہاں حاضر ہوا تو میری عقل کا ترازو ٹوٹا ہوا تھا اور میں اپنے نفس کو ان کے جوتے کے نیچے خیال کرتا ہوں اور میں ان کے پاس سے مدد اور فائدہ کے ساتھ نکلتا ہوں۔
جو مرشد کی کسی بھی بات کو ہلکا سا برا بھی جانتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی بات کو ہی برا جانتا ہے۔ انسان تب ہی اللہ کی ہر بات کو دل سے قبول کر سکتا ہے جب وہ پہلے مرشد کی ہر بات کو دل سے قبول کرنے پر استقامت اختیار کر لے۔ شیخ حضرت سیدی علی المرصفیؒ فرماتے تھے:
ہر مرید جسے اس کا شیخ دنیا کی کسی بات سے منع کرے اور وہ اس سے دل میں میل لائے تو اس طرح بعض اوقات وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ناراض ہوتا ہے جب وہ اس سے کسی چیز کو روکتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو حسنِ ظن کی دولت سے مالا مال کرے۔ آمین۔